ابنا: اسلامی جمہوریہ ایران کے نائب وزیر خارجہ حسین امیرعبداللہیان نے کہا ہے کہ قانون اور عوام کی رائے پر توجہ، گفتگو اور تشدد سے پرہیز بحران مصر کی بہترین راہ حل ہے۔
ایران کے نائب وزیر خارجہ نے ارنا سے گفتگو میں مصر میں عوام پر حالیہ تشدد کی مذمت کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ یہ تشدد اور جھڑپیں کسی کے فائدے میں نہیں ہیں اور عاقلانہ طریقے سے مذاکرات اور گفتگو کے ذریعے اس بحران کو حل کرنا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مصری عوام کے تقسیم ہونے اور بعض اداروں کی جانب سے ایک فریق کی حمایت سے بحران کو حل کرنے میں کوئی مدد نہیں ملے گی بلکہ اس سے بحران میں گہرا ہو گا اور اس سے صرف مصر کے دشمن خوش ہوں گے۔
دوسری جانب روس نے بھی مصر میں تشدد جاری رہنے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ روس کی نائب وزیر خارجہ ماریا زاخارووا نے ایک بیان میں کہا ہے کہ حالیہ دنوں کے دوران اسکندریہ اور مصر کے کئي دیگر شہروں میں برطرف صدر محمد مرسی کے حامیوں نے جو مظاہرے کیے ان کے دوران پولیس نے ان پر شدید تشدد کیا ہے۔ انہوں نے مصر کے بحران کو سیاسی طریقے سے حل کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ اس ملک کے تمام لوگوں اور مختلف مذاہب کے پیروؤں کے فائدے میں ہے۔
دریں اثنا مصر کی وزارت داخلہ نے کہا ہے کہ اس ملک کے اٹارنی جنرل ہشام برکات کچھ دیر کے بعد قاہرہ میں محمد مرسی کے حامیوں کے دھرنے کو ختم کرنے کا حکم جاری کر دیں گے جبکہ امریکہ نے مصری سکیورٹی فورسز کی جانب سے محمد مرسی کے حامیوں پر تشدد کی مذمت کی ہے۔ وائٹ ہاؤس کے ترجمان جاش ارنسٹ نے کہا ہے کہ سکیورٹی فورسز کے تشدد آمیز اقدامات کہ جن میں قاہرہ میں کم از کم اسی افراد مارے گئے، مصر میں جمہوریت کے عمل کو پیچھے دھکیل دیں گے اور یہ اقدامات عبوری حکومت کی جانب سے اقتدار کی غیرفوجی حکومت کو جلد از جلد منتقلی کے وعدے کے خلاف ہیں۔
ادھر مصری فوج نے ہیلی کاپٹر کے ذریعے رابعہ العدویہ پر دھرنا دینے والے مرسی کے حامی اجتماع پر پمفلٹ گرائے ہیں جن میں خبردار کیا گيا ہے کہ وہ فوجی مراکز کے قریب نہ جائیں۔ مصر نے دھرنے میں شریک افراد کو انتباہ دینے کے ساتھ ساتھ فوجی انٹیلی جنس مرکز کی عمارت کی طرف جانے والی سڑک کو بھی بند کر دیا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲
ایران کے نائب وزیر خارجہ نے ارنا سے گفتگو میں مصر میں عوام پر حالیہ تشدد کی مذمت کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ یہ تشدد اور جھڑپیں کسی کے فائدے میں نہیں ہیں اور عاقلانہ طریقے سے مذاکرات اور گفتگو کے ذریعے اس بحران کو حل کرنا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مصری عوام کے تقسیم ہونے اور بعض اداروں کی جانب سے ایک فریق کی حمایت سے بحران کو حل کرنے میں کوئی مدد نہیں ملے گی بلکہ اس سے بحران میں گہرا ہو گا اور اس سے صرف مصر کے دشمن خوش ہوں گے۔
دوسری جانب روس نے بھی مصر میں تشدد جاری رہنے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ روس کی نائب وزیر خارجہ ماریا زاخارووا نے ایک بیان میں کہا ہے کہ حالیہ دنوں کے دوران اسکندریہ اور مصر کے کئي دیگر شہروں میں برطرف صدر محمد مرسی کے حامیوں نے جو مظاہرے کیے ان کے دوران پولیس نے ان پر شدید تشدد کیا ہے۔ انہوں نے مصر کے بحران کو سیاسی طریقے سے حل کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ اس ملک کے تمام لوگوں اور مختلف مذاہب کے پیروؤں کے فائدے میں ہے۔
دریں اثنا مصر کی وزارت داخلہ نے کہا ہے کہ اس ملک کے اٹارنی جنرل ہشام برکات کچھ دیر کے بعد قاہرہ میں محمد مرسی کے حامیوں کے دھرنے کو ختم کرنے کا حکم جاری کر دیں گے جبکہ امریکہ نے مصری سکیورٹی فورسز کی جانب سے محمد مرسی کے حامیوں پر تشدد کی مذمت کی ہے۔ وائٹ ہاؤس کے ترجمان جاش ارنسٹ نے کہا ہے کہ سکیورٹی فورسز کے تشدد آمیز اقدامات کہ جن میں قاہرہ میں کم از کم اسی افراد مارے گئے، مصر میں جمہوریت کے عمل کو پیچھے دھکیل دیں گے اور یہ اقدامات عبوری حکومت کی جانب سے اقتدار کی غیرفوجی حکومت کو جلد از جلد منتقلی کے وعدے کے خلاف ہیں۔
ادھر مصری فوج نے ہیلی کاپٹر کے ذریعے رابعہ العدویہ پر دھرنا دینے والے مرسی کے حامی اجتماع پر پمفلٹ گرائے ہیں جن میں خبردار کیا گيا ہے کہ وہ فوجی مراکز کے قریب نہ جائیں۔ مصر نے دھرنے میں شریک افراد کو انتباہ دینے کے ساتھ ساتھ فوجی انٹیلی جنس مرکز کی عمارت کی طرف جانے والی سڑک کو بھی بند کر دیا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲